بھٹکل:23؍دسمبر(ایس اؤ نیوز) پڑوسی قصبہ شیرورکے توحید پبلک اسکول میں منعقدہ سالانہ جلسہ سے خطاب کرتےہوئے مہمان خصوصی کے طور پر تشریف فرما بھٹکل جامعہ اسلامیہ کے استاد مولانا نعمت اللہ عسکری ندوی نے کہا کہ خالص نیت، نصب العین کا تعین،محنت اورصبر کامیابی کے زینے ہیں۔ مولانا نے آگے کہا کہ اسکول اور مدارس کا قیام اسی لئے کیا جاتاہے کہ ہم دین ودنیا کے معاملات میں پیچھے نہ رہیں بلکہ ترقی کرتے چلے جائیں ۔ جہاں ہم عصری تعلیم پر توجہ دیتےہیں اسی طرح دینی تعلیم کو بھی ترجیح دیتے ہوئے قرآن وحدیث کی روشنی میں عصری علوم کو مزید فروغ دینے کےساتھ ساتھ دنیاوی سطح پر ترقی کی منزلوں کو چھو سکتےہیں۔ مولانا نے کہاکہ موجودہ حالات سے ہرایک بخوبی واقف ہے ، ایسی صورت حال میں ہم سب کے لئے ضروری ہے کہ اپنے بچوں کو علم سے آراستہ کریں۔ خاص کرعصری علوم کو دینی نہج پر ترقی دینا بے حد اہم ہے۔ انتظامیہ اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مولانا نے اسکول اور بچوں کی ہمہ جہت ترقی کی خواہش کا اظہار کرتےہوئے ایک خطیر رقم ادارہ کےلئے تحفہ میں دی۔
اسکول کے الومنی ڈاکٹر حذیفہ یمان بن مولانا عبدالرزاق ارےہولے نے اسکول کے اساتذہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ دنیا میں کوئی بھی چیز آسانی سے حاصل نہیں ہوتی،آزمائشیں اور مصیبتیں تو زندگی کا حصہ ہیں اس کو نظر انداز کرتےہوئے آگے بڑھیں گے تو بہتر نتیجہ نکلے گا۔ ادارہ کے ذمہ دار عبدالحمید شیخ جی نے جلسہ کی صدارت کی۔
اسکول کے وسیع و عریض میدان میں منعقدہ جلسے میں اسکول کی صدر مدرسہ محترمہ زبیدہ صاحبہ نے اپنی معاون استاد محترمہ ہاجرہ کے تعاون سے تیارکردہ پی پی ٹی کو پروجیکٹر کے ذریعے سالانہ رپورٹ مع تصاویر پیش کیں۔ طلباء وطالبات نے رنگ برنگے ترانے اور پروگرام پیش کئے ، جس میں ایکشن سانگ خاص کر فلسطین کی اہمیت پر خوبصورت ایکشن سانگ سے لوگ بہت محظوظ ہوئے، اسی طرح سے ناخدا زبان میں ہمارے معاشرہ کی خرابیاں اور اس کا سد باب پر بہت ہی دلچسپ مکالمہ ہوا جس سے فضا میں ایک خوشگوار مزاح کے ذریعے بہترین پیغام دیا گیا ۔
پروگرام کا آغاز افشان اینڈ گروپ کی تلاوت قرآن سے ہوا ۔ظہیر اینڈ گروپ نے حمد اور حسنی اینڈ گروپ نے ھدیہ نعت پیش کیا ۔ پروگرام کی نظامت مولانا فیضان کادرو نے بحسن خوبی انجام دی۔ مہمانوں کا تعارف اور استقبالیہ کلمات مولانا عبد العلیم ندوی نے پیش کیا ، کلمات تشکر رمشا قاضی نے پیش کیا ، کثیرتعداد میں خواتین شریک تھی، مولانا نعمت اللہ ندوی کی دعا پر پروگرام کا اختتام کو پہنچا۔